کابل ایئرپورٹ کا خودکش بمبار بھارتی کالج کا طالب علم نکلا

0 91

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نئی دہلی: کابل ایئر پورٹ کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اُڑا کر 13 امریکی فوجیوں سمیت 170 افراد کو ہلاک کرنے والے بمبار نے 2016 میں بھارتی شہر فریدآباد کے تعلیمی ادارے میں داخلہ لیا تھا۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق داعش کے ایک جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ کابل ایئرپورٹ پر دھماکا کرنے والا ان کا خود کش بمبار بھارت میں تعلیم حاصل کرچکا ہے اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں بھی رہا ہے۔

داعش کے اس دعوے پر بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رہورٹس مین تصدیق کی گئی ہے کہ خودکش بمبار عبدالرحمان الغوری نے 2016 میں ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔

بھارتی کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایک افسر نے انڈین میڈیا کو بتایا عبدالرحمان نے کالج میں داخلہ لینے کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے بجائے دارالحکومت دہلی کے چکر لگاتا رہا اور کئی مقامات کی تصاویر بھی بنائیں۔ مشکوک اور خفیہ سرگرمیوں کے باعث اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے عبدالرحمان سے کوئی خاطر خواہ شواہد حاصل کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث اسے افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا جہاں دوران تفتیش ملزم نے داعش کی کئی تربیت گاہوں کے بارے میں بتایا۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے افغان فوج کی اس تفتیش کو اپنی کامیابی بنا کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ مشترکہ آپرشن میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 600 سے زائد جنگجو ہلاک ہوگئے تھے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ادھر طالبان کے افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جیل توڑ کر قیدیوں کو رہا گیا جس مین عبدالرحمان بھی رہا ہوکر دوبارہ داعش سے جا ملا اور 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ کے دروزے پر ہجوم میں کود کو دھماکے سے اُڑا لیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.