اسرائیل کو ہم ملک نہیں سمجھتے بلکہ مسلمانوں کی زمین پر زبردستی قابض سمجھتے ہیں

0 88

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

افغان وزیرخارجہ مولوی امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ہم ملک نہیں سمجھتے بلکہ مسلمانوں کی زمین پر زبردستی قابض سمجھتے ہیں۔

امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے 33 صوبوں پر پاکستانی مدد کے بغیر کنٹرول حاصل کر لیا تو صرف پنج شیر کے دو تین اضلاع کیلئے ہمیں پاکستان کی مدد کی ضرورت کیوں پڑتی، یہ صرف پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ عبوری کابینہ کی حلف برداری کیلئے تقریب اب پلان کا حصہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ پہلے پروگرام تھا کہ ہم حلف برداری کی تقریب رکھیں گے، لیکن اس کیلئے ضرورت تھی کہ دوسرے ممالک سے وفد مدعو کیے جائیں، ادھر پروٹوکول کے انتظامات کی بھی ضرورت تھی، جس کیلئے وقت درکار تھا، دوسری طرف عوام کیلئے سروسز کی بہت ضرورت تھی، اس لیے لیڈرشپ نے فیصلہ کیا کہ فوری طور پر وزرا کا اعلان کریں، وہ اعلان ہوچکا ہے، ابھی وہ تقریب منسوخ ہوچکی ہے ۔

افغان وزیر داخلہ ملا سراج الدین حقانی نے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ ہم نے جو معافی دی وہ سیاسی معافی نہیں بلکہ شرعی قانون ہے، معافی نے ہمارے دلوں سے بدلے کی سوچ نکال دی ہے، ہم اپنی زمین پر قبضہ ختم کر کے اسلامی نظام چاہتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا، تمام پڑوسی ممالک اور دنیا سے اسلامی اصولوں اور قومی روایات کے تحت تعلقات چاہتے ہیں، ہم کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے ، دوسرے بھی ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں، افغان عوام کی آرام دہ زندگی کی حفاظت اور ترقی کی کوشش کریں گے ، مجاہدین کو اپنے رہنماؤں کی اطاعت کرنی چاہیے ، مال غنیمت اور دیگر مادی چیزوں اور عہدوں سے دھوکہ نہ کھائیں، ہمارے لوگ مظلوم تھے ، ان کے ساتھ برا سلوک نہ کریں۔

انہوں نے افغان حکام کو ہدایت کی کہ سابق افسران سے متعلق نامناسب الفاظ استعمال نہ کریں، آپ افغان عوام کے حکمران نہیں خادم ہیں، کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں، ملا سراج الدین حقانی نے شہریوں کو ہدایت کی کہ مسائل کی صورت میں عوام حکام سے اپیل کریں، مجرموں کو شریعت کے مطابق سزا ملے گی۔

افغانستان کے وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ کابل اور دیگر صوبوں کے وہ سرکاری ملازمین جو بروز پیر تک کام کیلئے حاضر نہیں ہوتے ، اس ماہ کی پہلی تاریخ سے غیر حاضر سمجھے جائیں گے اور ان کو تنخواہ نہیں ملے گی۔

امارت اسلامی افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹویٹ میں امریکا کی جانب سے تازہ بلیک لسٹ کو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی قراردیا، انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ امارت اسلامی کا حصہ ہے، انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے تمام رہنماؤں کو بلیک لسٹ سے نکالے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.