اساتذہ کے مطالبات پر فور عملدرآمد نہیں ہوا تو 16اگست کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا اور17اگست کو قومی شاہراہیں احتجاجاً بند کردیں، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر محمدانور ناصراوردیگر کی پریس کانفرنس

0 104

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (آئینی)بلوچستان کے ضلعی صدورو کونسلران محمد انور ناصر،عزیز آغا،موسیٰ رند،عطاءاللہ ساسولی،عبدالمجید بنگلزئی، ملک منظور ترین ، عبدالمجید ، عبدالکریم گاجانی ،یعقوب رند اوردیگر نے کہا ہے کہ اساتذہ قائدین تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے 10روز سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اگر بھوک ہڑتالی اساتذہ کو کچھ ہوا تواسکی ذمہ داری حکومت اور محکمہ تعلیم کے افسران پر عائد ہوگی ،گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مطالبات پر فوری طور پر عملدرآمد نہیں ہوا تو 15اگست کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا جبکہ 16اگست کو تمام قومی شاہراہیں احتجاجاً بند کردیں گے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے اساتذہ کے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (آئینی) بلوچستان نے 18جولائی سے 2اگست تک علامتی بھوک ہڑتال اور 3اگست سے تاحال تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کررکھی ہے اور10اگست کو اساتہ نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا ۔انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ قائدین کی ہڑتال کو آج دسواں دن ہے اورانکی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہوسکتا ہے اس سنگین حالات میں بھی حکومت ٹال مٹول اور یقین دہانیوں سے کام لے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم ملازمیناور خصوصاً اساتذہ کرام کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دے رہی گزشتہ دو سال سے ٹال مٹول اور تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہں حکومت پر واضح کرناچاہتے ہیں کہ ہمارے قائدین کو کچھ ہوا تو پھر حالات ہمارے اور حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.