مستونگ میں اتائی ڈاکٹروں کی بھرمار، انسانی زندگیوں سے کھیلنے لگے

0 60

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

مستونگ :ضلع مستونگ کے مختلف علاقوں میں غیر تربیت یافتہ اتائی ڈاکٹروں کی بھر مار، انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے لگے محکمہ صحت، ڈرگ انسپکٹر سمیت متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں تفصیلات کے مطابق موسم گرما کی سیزن شروع ہوتے ہی بلوچستان اور سندھ کے گرم علاقوں سے پروفیشنل بھکاریوں کی طرح اتائی ڈاکٹروں کی بھی بڑی تعداد نے مستونگ سمیت دیگر اضلاع کی طرف رخ کر کے۔کلینک کھول کر خود ساختہ ڈاکٹر بن کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے ہیں۔واضع رہے کہ اس مستونگ شہر، کھڈکوچہ، اسپلنجی، تحصیل دشت، کردگاپ، مستونگروڈ سمیت قومی شاہراوں پر غیر تربیت یافتہ عطائی ڈاکٹرز نے کلینک کھول کر سرعام لوگوں کا علاج کر رہے ہیں جبکہ عطائی ڈاکٹرز غریب اور سادہ لوح لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سستی اور جعلی ادویات کا استعمال بھی کرتے ہیں اور انکے کلینکس پر غیر معیاری ادویات بھی سرعام بکتی ہیں نان پروفیشنل ڈاکٹروں کی خود ساختہ علاج و معالجہ اور غلط انجکشن لگانے سے اب تک کئی افراد معزور جبکہ کئی کی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔واضع رہے کہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنے اور ایک ہی سِرنچ سے مختلف مریضوں کو انجکشن لگانے سے اکثر لوگ کالا یرقان جیسی موذی بیماریوں کا بھی شکار ہو چکے ہیں، علاقے کی سیاسی و سماجی تنظیموں، صحافیوں نے کئی بار اس اہم مسلے کو پوائنٹ آوٹ کیا۔لیکن محکمہ صحت و ڈرگ انسپکٹر کی جانب سے فوٹو سیشن کی حد تک کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے، لیکن اگلے ہی روز مزکورہ اتائی ڈاکٹرز دوبارہ اپنی کلینکس کھول کر لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں۔اہل علاقہ وسیاسی سماجی حلقوں نے اتائی ڈاکٹرز کو معاشرے کے لئے ناسور قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مستونگ ، DHO مستونگ اور ڈرگ انسپکٹر سے غیر تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.