جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ و دھرنا

0 79

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ:جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیرانتظام جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کوتا حال پچھلے دو ماہ کی تنخواہوں اور بقایاجات کی عدم ادائیگی، جامعہ کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کے مستقل خاتمے، اور یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کی پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی یقینی بنانے ، آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن اور آپ گریڈیشن کیلئے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں گزشتہ روز بھی جامعہ بلوچستان میں بڑا احتجاجی مظاہرہ ھوا اور آخر میں وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے میں تبدیل ھوا۔احتجاجی دھرنے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاھ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان اچکزئی سید شاہ بابر، اسحاق پرکانی اور حافظ عبدالقیوم نے خطاب کیا۔ مقررین نیکہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کے نتیجے میں وزیر اعلی بلوچستان نے جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین و پینشنرز کے لئے 300 ملین روپے کا بیل آٹ پیکیج فوری طور پر جاری کرنے کی نوٹیفکیشن جاری کیا لیکن تاحال جامعہ بلوچستان کے اکانٹس میں شفٹ نہیں ھوئے ۔

مقررین نیکہا گو کہ 300 ملین روپے سے جامعہ کے دو مہینوں کی تنخواہوں اور بقایاجات کی ادائیگی بمشکل ھوسکے گی لیکن مستقل حل کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ مقررین نے کہا کہ گذشتہ روز چئیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختیار احمد اور انکی ٹیم نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو جائز قرار دینے ھوئے واضح کیا کہ اساتذہ کرام اور ملازمین کو ماہانہ تنخواہ اور پینشنرز کو پینشنز کی ادائیگی ادارے کے سربراہ کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ مقررین نے کیا کہ جب سے جامعہ بلوچستان پر موجودہ وائس چانسلر غیر قانونی طور پر مسلط ھوا ہے جامعہ سخت مالی، انتظامی و تعلیمی بحران کا شکار ہے۔جامعہ بلوچستان کو تباہی سے بچانے کا واحد حل غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر کی برطرفی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سازش سے جامعات کی ایکٹس 2022 میں پالسی ساز اداروں خصوصا سنڈیکیٹ، سینیٹ، اکیڈمک کونسل اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی سے اساتذہ کرام،آفیسران، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی یکسر ختم کرکے تعلیم وصوبہ دشمن اقدام اٹھایا گیا جس سے جامعات کی خودمختاری متاثر ہوئی اور ون مین شو کے ذریعے جامعات کو ایڈہاکزم کے تحت چلایا جارہا ہے ۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی و مرکزی حکومت اور ایچ ای سی جامعہ بلوچستان کی مالی بحران کی مستقل حل کیلئے بیل آوٹ پیکیج کا فوری اعلان کرے ۔ انہوں نیکہا کہ جامعہ کے مسلط وائس چانسلر نے آفیسران اور ملازمین کو قصدا اور انتقامن پروموشن اور آپ گریڈیشن سے محروم رکھا ہیں ۔مقررین نے کہا کہ جامعہ بلوچستان میں تین ریسرچ سینٹرز بھی سخت مالی ،انتظامی و تعلیمی بحران کے شکار ہیں انکے اساتذہ کرام اور ملازمین بھی ماہانہ تنخواہوں اور منظور شدہ الاونسز سے محروم ہیں۔ دریں اثنا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران نے پرو وائس چانسلر، رجسٹرار اور ٹریڑار سے ملاقات کی اور دو مہینوں کی تنخواہوں سمیت بقایاجات کی ادائیگی اور پروموشن و آپ گریڈیشن پر عملدرآمد یقینی بنائے اور تیاری پر زور دیا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ بروز بدھ کو بھی جامعہ کے تمام اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین آرٹس بلاک کے سامنے دن گیارہ بجے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کے لئے جمع ہو

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.