ثابت کر سکتا ہوں پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا،پاکستان کی معاشی ترقی دنیا دیکھے گی: اسحاق ڈار

0 88

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سستی سیاست کے لیے ڈیفالت کی باتیں کر کے ملک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے،کسی سے انتقام نہیں لینا ،معیشت کو ٹھیک کرنا ہے،وزیر خزانہ
ڈالر کی سمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے، ڈالر، گندم اور کھاد کی اسمگلنگ کو روکنا ہے، اگلے 6 سے 7 سال میں 35 ارب ڈالرز کی ضرورت ہو گی،تقریب سے خطاب

کراچی :وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ثابت کر سکتا ہوں پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں، سنگین مسائل کے باوجود ہم پیرس کلب نہیں جائیں گے، سیاسی گیم اسکورنگ کرکے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا ہے، تین ماہ سے وزارت خزانہ کے منصب پر فائز ہوں اور ہر وقت ڈیفالٹ کی باتیں سنتا ہوں،کسی سے کوئی انتقام نہیں لیں گے بلکہ معیشت کو ٹھیک کریں گے ،پاکستان کی معاشی ترقی دنیا دیکھے گی۔بدھ کے روزپاکستان سٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے ایس ای سی پر توجہ نہیں دی، سستی سیاست کے لیے پاکستان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ملک کے ڈیفالٹ کی باتیں کی جا رہی ہیں، لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا کوئی ڈالر تو کوئی سونا خرید رہا ہے، سیاسی مقاصد کے لیے ایسی باتیں کرنا درست نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سنگین مسائل ہیں لیکن ہمیں اس کا حل نکالنا ہے، ہمیں کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنانا، ملک کی معیشت کو ٹھیک کرنا ہے، ، ہم مدد کے لیے پیرس کلب نہیں جائیں گے، آنے والے چند ماہ میں پاکستان کی پوزیشن واضح ہو جائے گی، میں پاکستان کے ایشوز کو حل کر رہا ہوں، یہ ماضی کا پاکستان نہیں، ملک کیوں ڈیفالٹ کرے گا۔ان کا کہنا تھا 2013 میں بھی کہا جا رہا تھا کہ پاکستان 6 ماہ میں ڈیفالٹ کر جائے گا، ڈکٹیٹر آئی ایم ایف کا پروگروم پورا نہیں کر سکے، ن لیگ نے آئی ایم ایف کا پروگرام پورا کیا تھا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ معیشت پر جو تجربے ہوئے اس کا جوابداہ میں نہیں ہوں، ڈالر کی ہمسایہ ملک کو اسمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے، ہمیں ڈالر، گندم اور کھاد کی اسمگلنگ کو روکنا ہے، اگلے 6 سے 7 سال میں پاکستان کو 35 ارب ڈالرز کی ضرورت ہو گی۔ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیاسی گیم اسکورنگ کرکے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا ہے، تین ماہ سے وزارت خزانہ کے منصب پر فائز ہوں اور ہر وقت ڈیفالٹ کی باتیں سنتا ہوں۔پاکستان کا ڈیفالٹ ہونے کا کوئی چانس نہیں ہے، ملکی زرمبادلہ ذخائر کم ہیں مگر ڈیفالٹ کا خطرہ بالکل نہیں اور میں ثابت کرسکتا ہوں پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا،انہوں نے کہا کہ 2013 میں بھی معاشی حالات انتہائی ابتر تھے اور تین سال کے عرصے میں معیشت کھڑی کر دی، پاکستان 2013 میں بھی ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا مگر بہتر معاشی اقدامات سے باہر آگئے تھے۔اسحاق ڈار نے اعتراف کیا کہ پاکستان اس وقت معاشی بھنور میں پھنسا ہوا ہے جس کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا انتہائی ضروری ہوگیا ہے، کیپیٹل مارکیٹ کی بہتری کے لیے چیئرمین ایس ای سی پی کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ستمبر کو ذمہ داری سنبھالتے ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور ایس ای سی پی کو فوکس کیا لیکن بدقسمتی سے ایس ای سی پی میں سالوں سے کمشنرز تعینات ہی نہیں تھے،اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے ملکی معیشت کو بہتر سمت لے جایا جا سکتا ہے، دنیا کی پانچویں اسٹاک مارکیٹ اس وقت انتہائی مشکل میں ہے اور خواہش ہے اسٹاک مارکیٹ کا گولڈن دور واپس آئے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کیلئے ایف بی آر کی پالیسی کو بھی نرم کیا جا رہا ہے،وزیر خزانہ نے کہا کہ لوگوں کو ڈرا کر رکھا ہوا ہے کوئی سونا تو کوئی ڈالر خرید رہا ہے، ہمیں لوگوں کو اس ڈر سے نکالنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی دنیا دیکھے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 31ارب ڈالر کا بندوبست کرنا ہے، توانائی بحران کی وجہ سے ایکسپورٹ متاثر ہوئی ہے، اسٹیٹ بینک نے کل رات امپورٹ سے متعلق نیا سرکلر جاری کر دیا ہے جس میں امپورٹ پر عائد پابندیوں کو ہٹا دیا گیا ہے، شق 87، 85 اور 84 ختم کرکے امپورٹر کو ریلیف دے دیا ہے جبکہ توانائی، فارما اور اسپیئر پارٹیس کی امپورٹ پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی اسمگلنگ سب سے بڑا مسئلہ ہے، فارن اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری اور فارن ایکسچینج کا باہر جانا تشویشناک عمل ہے، ایس ای سی پی کو اس مسئلے پر ہدایت کی ہے، ڈالر اور کھاد کی اسمگلنگ کے لیے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ پلان بنا لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر اس وقت بلند ہے لیکن روپے کی بے قدری بہت بڑا مسئلہ ہے اور مجھ سے پہلے جو تجربے ہوئے اسکا میں ذمہ دار نہیں، تین ماہ سے پہلے جو معاشی تجربے ہوئے اسکا میں نہیں حکومت ذمہ دار ہے، پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور مستحکم رکھنا حکومت کی بہتر پالیسی کا نتیجہ ہے،وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 35 سو ارب روپے کی چھ سال میں ضرورت ہے، پانچ ماہ میں کرنٹ اکاونٹ خسارے کو کم کیا ہے جبکہ پاکستانی معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.