اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا

0 115

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

یہ عدالت محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتی،جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے گرفتاریوں کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے لانگ مارچ کے شرکا پر ممکنہ تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ یہ عدالت محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتی۔چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ شرکا پر ممکنہ تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی جس سلسلے میں پی ٹی ائی کے وکیل علی ظفر اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے دورانِ سماعت پی ٹی ا?ئی کے وکیل علی ظفر نے نے کہا کہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا کلاسک کیس ہے، پرامن احتجاج آئینی حق ہے لیکن کل رات سے ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے، جب سے ہم نے پٹیشن فائل کی تب سے کریک ڈاؤن جاری ہیعلی ظفر کے دلائل پر چیف جسٹس اسلام ا?باد ہائیکورٹ نے کہا کہ دھرنا کیس میں سپریم کورٹ طے کر چکی ہے اس پر عمل ہونا چاہیے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں بھی سپریم کورٹ کے طے کردہ ضوابط کے مطابق چلنا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بلینکٹ آرڈر تو یہ عدالت نہیں دے سکتی کیونکہ یہاں پر حساس عمارتیں ہیں یہاں پر ایمبیسیز ہیں اس طرح کا آرڈر تو جاری نہیں کر سکتے، عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.