کوئٹہ ینگ ڈاکٹرز نے حکومت بلوچستان کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

0 272

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت بلوچستان کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے آج ریڈ زون کی طرف ریلی نکالنے کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ اگر ینگ ڈاکٹرز کو روکنے یا ان پر کسی قسم کی تشدد یا لاٹھی چارج کیا گیا تو ہنگامی بنیادوں پر ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کیا جائے گا بلوچستان کے حکمران 28 دنوں سے اسلام آباد و کراچی کے یاترا پر ہے انہیں 28 دنوں میں ڈاکٹروں سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا بلوچستان کے اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی معنی خیز ہے۔

ان خیالات کا اظہار ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے چیئرمین ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین مالک شاہ سیکرٹری جنرل شاہد جان خٹک کے ہمراہ سول ہسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے حنیف لونی، ڈاکٹر یاسر اچکزئی، ڈاکٹر محبت خان، پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے فضل الرحمان کاکڑ، ینگ نرسز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ملک عزیز کاکڑ، نصیب عباسی و دیگر بھی تھے۔ ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج کو ایک ماہ ہونے کو ہے اس وقت ہم بلوچستان کے ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان اور پرائیویٹائزیشن کے خلاف سراپا احتجاج ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پسماندہ اور یہاں کے لوگ غریب ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اور اس ناروا سلوک کے خلاف و حق کی بات کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے انہیں حق و سچ کی پاداش میں گزشتہ 28 دن سے پابند سلاسل کیا گیا ہے آج ہمارے پڑھے لکھے ڈاکٹرز کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت لایا گیا

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے لیکر وزیراعلی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اس وقت ہمارے حکمران عوام کا سامنا کرنے میں شرما رہے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تنظیموں کے پاس جائیں گے۔ گزشتہ 28 دنوں سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکمران دھماکے کے بعد ہسپتال کا دورہ فوٹو سیشن کیلئے کیا جاتا ہے کبھی سہولیات کے فقدان کا نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ رات ساڑھے تین بجے کونسا رود بلاک کیا جاتا ہے بلوچستان کے اپنے وسائل کے باوجود یہاں کے ڈاکٹرز اور میڈیکل کے طلبا سراپا احتجاج ہے۔

ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے کہا کہ ہمارا احتجاج سیاسی نہیں ایک تحریک ہے جو ملک بھر میں پھیلا گئی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں انتہا کا اقدام اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے حالانکہ قانون کے تحت ہمیں اپنی آواز بلند کرنے کا حق ہے لیکن وہی حق چھیننا جا رہا ہے آج دن 12 بجے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی اس دوران اگر ہمیں روکا گیا یا کسی بھی ڈاکٹر پر تشدد ہوا تو ینگ ڈاکٹرز اسی وقت سے ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کا اعلان کریگی

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو مطالبات کے حل کیلئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں اس کے بعد ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کا اعلان کیا جائے گا اس وقت حکومت کے علم میں تمام چیزیں ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حکمران 28 دنوں سے اسلام آباد و کراچی کے یاترا پر ہے انہیں 28 دنوں میں ڈاکٹروں سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اگر ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات جائز ہیں تو کیا ان کے حل میں 28 دن لگتے ہیں۔ ریلی پورے شہر میں گھومے گی اور پھر ریڈ زون جائے گی اگر ہمیں روکا گیا یا تشدد کی گئی تو ہم نہ صرف حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کریں گے بلکہ ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے وزیر اعلی بلوچستان کا پتلا جلایا گیا ہے۔ پیرا میڈیکس سٹاف فیڈریشن کے شاہد جان خٹک نے کہا کہ پڑھے لکھے لوگوں کو بغاوت پر مجبور کیا جا رہا ہے 28 دنوں میں ڈاکٹروں کے ساتھ جو رویہ روا رکھا گیا ہے وہ قابل افسوس ہے ہر سیاست دان کو یہ مسائل پتہ ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات تسلیم کئے پیرا میڈیکس کا آج اجلاس ہوگا ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اس سلسلے میں پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے ڈاکٹروں کو زندانوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ ٹراما سینٹر میں سامان کی عدم دستیابی سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ صرف ڈاکٹر نرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو پتہ ہوتا ہے اپوزیشن و حکومتی جماعتوں کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان لوگوں کے ساتھ ڈاکٹرز کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے وقت نہیں ہے جو افسوسناک ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.