ڈوپلیسی حسین یادوں کا سلسلہ بڑھانے کے خواہاں

0 83

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

فاف ڈوپلیسی پاکستانی ٹورز کی حسین یادوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

پروٹیز بیٹسمین کا کہنا ہے کہ ورلڈ الیون کی قیادت کرتے ہوئے شائقین کا کرکٹ سے لگاؤ اور جوش و خروش بے مثال نظر آیا تھا، فروری میں بخوشی جنوبی افریقی ٹیم کے ساتھ دورہ کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں ایک بار پھر کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ میں تیسری مرتبہ پاکستان آیا ہوں، پہلی بار انڈر19ٹیم کے ساتھ دورہ کیا تھا، اس وقت کراچی بھی آمد ہوئی،طویل عرصے بعد یہاں دوبارہ آنا خواب جیسا لگ رہا ہے،دوسری بار 2017میں ورلڈالیون کے ساتھ بطور کپتان آیا، لمبے تعطل کے بعد انٹرنیشنل کرکٹرز نے اس سرزمین پر قدم رکھا، اس وقت بڑا عجیب سا لگ رہا تھا، متعقلہ اداروں نے ہماری سیکیورٹی کیلیے بھرپور انتظامات کیے،صورتحال دیکھ کر ہر چیز معمول کے مطابق لگنے لگی۔

ڈوپلیسی نے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑی بات شائقین کا کرکٹ سے بے مثال لگاؤ اور جوش و خروش تھا، اس لیے بہت اچھا محسوس ہوا کہ ہم یہاں میچز کھیل کر اس ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے جا رہے ہیں، ذاتی طور پر بھی بطور کرکٹر یہ میرے لیے بڑا منفرد سفر اور قابل فخر تجربہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ میں آئندہ سال جنوبی افریقی ٹیم کے ساتھ پھر پاکستان کا دورہ کرنے کے حوالے سے پْر امید ہوں،دونوں ملکوں کے بورڈز فروری میں سیریز کے انعقاد کیلیے معاملات کو حتمی شکل دے رہے ہیں، میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں ایک بار پھر بخوشی کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔

ڈوپلیسی پاکستانی کھانوں کے گرویدہ

فاف ڈوپلیسی پاکستانی مصالحہ دار کھانوں کے گرویدہ ہیں، پروٹیز اسٹار کا کہنا ہے کہ میں کسی ملک میں جاؤں وہاں کے روایتی کھانوں سے ضرور لطف اندوز ہوتا ہوں، ورلڈ الیون کے ساتھ یہاں آیا تو کئی ڈشز کا مزا چکھا تھا،کراچی آمد کے بعد ابھی تک چند مصالحے دار کھانوں کا لطف اٹھایا ہے،یہاں مختلف ڈشز کی بہت زیادہ ورایٹی نظر آتی ہے،ابھی تک 4سالن چکھ چکا ہوں،اپنے قیام کے دوران مزید ڈشز کا بھی مزا لینے کی کوشش کروں گا۔

بابر اعظم اور ویرات کوہلی میں مماثلت نظر آتی ہے

فاف ڈوپلیسی کا کہنا ہے کہ بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے کئی لوگوں کو حیران کیا ہے، وہ ابتدا میں سوچتے تھے کہ نوجوان بیٹسمین میں اس فارمیٹ کیلیے درکار پاور نہیں ہے لیکن آخری چند میچز میں انھوں نے شاندار فارم اور کارکردگی دکھائی، بابر اعظم تینوں فارمیٹ میں عظیم بیٹسمینوں کی فہرست میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھے بابر اعظم اور ویرات کوہلی میں مماثلت نظر آتی ہے، دونوں نہایت اعلیٰ معیار کے کرکٹر ہیں، پاکستانی اسٹار نے گذشتہ سال میں اپنی کارکردگی سے عظیم بیٹسمینوں کی صف میں شامل ہونے کے ہدف کی جانب ایک اور قدم بڑھایا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.