ایتھوپیا : تین شہریوں کو زندہ جلائے جانے پر شدید غم وغصہ

0 93

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

آتش زنی کا نشانہ بننے والے لوگ تیگرائے نسل کے تھے،یہ واقعہ وحشیانہ ہے ،تیگرائے رہنما
عدیس آبابا:افریقی ملک ایتھوپیا میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں تین عام شہریوں کو مسلح افراد کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے کے واقعے پر عوام میں شدید غم وغصہ پھیل گیا ہے۔ دوسری طرف حکام نے اس واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ایتھوپیا کے حکام نے کہا ہے کہ وہ اس ویڈیومیں کھائے گئے تمام مسلح افراد کے خلاف مقدمہ چلائیں گے جو کم از کم تین افراد کے قتل میں ملوث پائے گئے ہیں۔جمعہ سے سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ایتھوپیا کی گورنمنٹ کمیونیکیشن سروس نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ جس میں مسلح افراد نے حملہ کر کے تین شہریوں کو جلا دیا تھا شمال مغربی بینیشنگول-گومز کے علاقے گوبا میں پیش آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو ریکارڈنگ ایک ہولناک اور غیر انسانی فعل کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ کہ ان کے مقاصد کچھ بھی ہوں حکومت اس گھنانے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اور یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ آیا کسی مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔تیگرائے کے رہنمائوں نے جو وفاقی افواج اور ان کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں نے کہا کہ آتش زنی کا نشانہ بننے والے لوگ تیگرائے نسل کے تھے۔انہوں نے جاری ایک بیان میں اس واقعے کو وحشیانہ قرار دیا۔امھرا کے توسیع پسندوں پر بینیشنگول-گومز میں رہنے والے تیگرائے عوام کے خلاف مظالم کا الزام بھی لگایا۔حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ایتھوپیا کے انسانی حقوق کمیشن نے جمعہ کے روز تیگرائے کی افواج پر شہریوں کو اندھا دھند قتل کرنے اور شہروں پر بڑے پیمانے پر گولہ باری کرنے کا الزام عائد کیا۔وزیر اعظم ابی احمد کی حکومت نسلی حملوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ نومبر 2020 کے بعد تیگرائے میں فسادات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.