اعلیٰ معیار کی ترقی اور غربت میں کمی چین اور پاکستان کے مشترکہ مقاصد ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان

0 95

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

چین کا انسداد غربت ماڈل پاکستان کے لیے ایک مثال ہے،ہمارے بامعنی تبادلے اور عملی تعاون یقینی طور پر ایک نئے دور کے لیے مشترکہ کمیونٹی کی ترقی کا باعث بنے گا ،عبد القدوس بزنجو

سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، سی پیک کے تحت دو طرفہ تعاون کے مرکزی نکات میں سے ایک غربت کا خاتمہ اور اعلیٰ معیار کی ترقی ہے، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا چین پاکستان فورم 2021 سے خطاب
اسلام آباد: وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی ترقی اور غربت میں کمی چین اور پاکستان کے مشترکہ مقاصد ہیں، چین کا غربت کے خاتمے کا ماڈل پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال کے طور پر کام کرتا ہے،ہمارے بامعنی تبادلے اور عملی تعاون یقینی طور پر ایک نئے دور کے لیے مشترکہ کمیونٹی کی ترقی کا باعث بنے گا جبکہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے،

سی پیک کے تحت دو طرفہ تعاون کے مرکزی نکات میں سے ایک غربت کا خاتمہ اور اعلیٰ معیار کی ترقی ہے۔ گوادر پرو کے مطابق چین پاکستان فرینڈ شپ صوبوں اور شہروں کے درمیان تعاون پر فورم 2021 کامیابی کے ساتھ آن لائن منعقد ہوا۔ چین اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون اور ترقی کا مشترکہ اعلامیہ باضابطہ طور پر جاری کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں عالمی برادری سے متعلق 7 اہم مسائل شامل ہیں۔ چینی اور پاکستانی سفیروں، وزرات خارجہ کے نمائندوں اور مرکزی اور مقامی حکومتوں نے ان معاملات پر باضابطہ طور پر اتفاق کیا ہے۔ گوادر پرو کے مطابق مشترکہ بیان میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں فریق گزشتہ 100 سالوں میں سی پی سی کی تاریخی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔سی پیک نے نتیجہ خیز اور سدا بہار ترقی کی ہے، تعاون کی سٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کیا گیا ہے،اور چین پاکستان تعلقات یکساں اور باہمی طور پر ساز گارہو گئے ہیں۔ 21ویں صدی ایک ایشیائی صدی ہے، باہمی مفاد اور مشترکہ ترقی بنی نوع انسان کے لیے صحیح راستہ اور تمام ممالک کے لیے واحد صحیح انتخاب ہے۔

چین اور پاکستان نے وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرکے عالمی برادری کے لیے یکجہتی اور تعاون کی ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ چین اور پاکستان سیاست، معیشت اور تجارت، سائنسی اور تکنیکی اختراعات، تعلیم و ثقافت، صحت عامہ اور عوام سے عوام کے تبادلوں میں باہمی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے مزید سسٹر سٹی تعلقات قائم کریں گے۔ دونوں ممالک نے 2023 میں چین اور پاکستان کے دوستی صوبوں اور شہروں کے درمیان تعاون کے فورم کے دوبارہ انعقاد پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک 2022 کے بیجنگ سرما ئی اولمپک کھیلوں کی کامیاب میزبانی کے منتظر ہیں اور اولمپک روح کو مجروح کرنے یا اولمپک گیمز کو سیاسی رنگ دینے کی کسی بھی کوشش، الفاظ اور عمل کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں مذکورہ پہلوؤں کے علاوہ غربت میں کمی کو ایک اور اہم ایجنڈا سمجھا گیا۔ فریقین نے مشترکہ اعلامیہ میں اتفاق کیا کہ سی پیک کے تحت سسٹر صوبوں اور شہروں کے درمیان مقامی تعاون سے غربت میں کمی اور مقامی اقتصادی ترقی کے

عمل کو فروغ ملے گا۔گوادر پرو کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

سی پیک کے تحت دو طرفہ تعاون کے مرکزی نکات میں سے ایک غربت کا خاتمہ اور اعلیٰ معیار کی ترقی ہے۔گوادر پرو کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی اتفاق کیا ہمارا عملی اور گہرا تعاون ترقی اور غربت کے خاتمے سمیت تمام اہم شعبوں پر محیط ہے۔

اعلیٰ معیار کی ترقی اور غربت میں کمی ہمارے دونوں ممالک کے مشترکہ مقاصد ہیں۔ چین کا غربت کے خاتمے کا ماڈل پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال کے طور پر کام کرتا ہے۔ ہمارے بامعنی تبادلے اور عملی تعاون یقینی طور پر ایک نئے دور کے لیے مشترکہ کمیونٹی کی ترقی کا باعث بنے گا۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق انہوں نے غربت میں کمی اور مقامی ترقی کے حوالے سے کئی تجاویز بھی پیش کیں۔ ان کی تجاویز میں تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کا قیام اور سسٹرصوبوں اور شہروں کے تعلقات کے فریم ورک کے تحت ہمہ جہت تعاون، تبادلے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی، بلوچستان میں غربت کے خاتمے کے لیے ماڈل ویلجز کا قیام، چین کے بہترین طریقوں کا اشتراک اور کاروباری اداروں کے درمیان مشترکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے نئے شعبوں کی نشاندہی کرنا، اور لوگوں کے درمیان تبادلے کو فروغ دینا شامل ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.