صرف ہار نہیں جیت پر بھی بلانا چاہیے، وقار کا کرکٹ کمیٹی سے شکوہ

0 91

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لاہور  پاکستان کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ وقار یونس نے کہا کہ وہ تعمیری اور بامعنی تنقید سے سیکھتے ہیں لیکن غصے میں کی جانے والی تنقید کے بارے میں نہ سوچتا ہوں اور نہ میرے پاس اس کا جواب دینے کیلئے وقت ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ کرکٹ کمیٹی کو باقاعدگی سے بلانا چاہیے ، ایسے سیشنز بہت اچھے ہوتے ہیں، کرکٹ کمیٹی کو صرف ہار نہیں جیت پر بھی بلانا چاہیے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا اچھا کیا کہ کامیابی ملی تاکہ کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا پلان کیا جا سکے ۔آن لائن پریس میں میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہو ئے وقار یونس نے کہا کہ ہر کھیل کی بنیاد پرفارمنس ہوتی ہے اور جب پرفارمنس نہیں ہوتی تو سکروٹنی تو ہو گی جو کہ فطری بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ تنقید ہونی چاہیے اس سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے لیکن بے معنی تنقید نہیں ہونی چاہیے ۔انہو ں نے کہا کہ ہم سب پاکستان ٹیم کی جیت چاہتے ہیں، جو تنقید کرتے ہیں وہ بھی جیت چاہتے ہیں، ہمیں کسی کو نیچا نہیں دکھانا اور نہ ہی کسی کو جواب دینا مقصد ہے ۔ ہم جذباتی قوم ہیں، میں بھی جذباتی ہوں، ہم جذباتی پن میں کچھ ایسا بول جاتے ہیں کہ دوسروں کو دکھ ہوتا ہے ۔نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر سے کوچز ٹیم کے ساتھ آئے تو یہ سلسلہ اچھا لگا، ایسے رابطے رہنے چاہئیں، ان کے آنے سے ہم نے خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھا، ہم میچور لوگ ہیں، ہمیں کسی سے ڈر نہیں اور نہ ہم غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔وقار یونس نے کہا کہ جیت ہمیشہ اچھی لگتی ہے ، اس پر سب کو خوشی ہوتی ہے ، جیت کیلئے ہر کھلاڑی نے محنت کی ہے ، اس کا کریڈٹ سب کو جاتا ہے ، سپورٹ سٹاف نے بھی بہت محنت کی، سپورٹ سٹاف کی محنت بعض اوقات نظر نہیں آتی لیکن جیت کا کریڈٹ سپورٹ سٹا ف کو بھی جاتا ہے ۔ شاہین آفریدی کے ورک لوڈ کے بارے میں دیکھ رہے ہیں، کوچز اور ڈاکٹرز کی اس پر کڑی نظر ہے ۔ حسن علی ایک گریٹ کریکٹر ہے ، انجری کے بعد آنا اور پرفارم کرنا قابل تعریف ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.