بلوچ قوم پرست رہنماء سردار عطاء اللہ مینگل کی جسد خاکی بلوچستان میں داخل

0 109

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

حب( نامہ نگار) بلوچ قوم پرست رہنماء سردار عطاء اللہ خان مینگل کی جست خاکی کراچی سے بلوچستان میں داخل ہوگئ – بلوچستان کے سرحدی شہرحب کے مقام پر .سردار عطاء اللہ خان مینگل کی میت کا والہانہ استقبال اور شہریوں کی جانب سے پھولوں کی پتیاں نچاور کی گئ – بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی شخصیات کا قوم پرست رہنماء کی میت کا شاندار استقبال کیا گیا.بلوچ قوم پرست رئنما سردار عطاء اللہ خان مینگل کی تدفین آج شام 4 بجے اپنے آبائی علاقے وڈھ میں کی جائیگی.اس موقع پر صوبائ حکومت کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گیے ہیں –

باباے بلوچستان سردار عطاء الله مینگل کی جسد خاکی وندر پہنچ گیا جہاں پر بلوچستان نیشنل پارٹی جمیعت علماء اسلام۔ نیشنل پارٹی۔ پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکنان اور عوام ‌نے اپنے محبوب رہنماء کے کاروان کا پھولوں سے استقبال کیا

سردار عطااللہ مینگل علالت کے باعثگزشتہ کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی میت کو کراچی سے خضدار کے لیے روانہ کردیا گیا ہے ۔ ان کی تدفین سہہ پہر چار بجے ان کے آبائی علاقے وڈھ میں کی جائے گی ۔

وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل اور قوم پرست رہنما میر جاوید مینگل کے والد تھے۔وہ 1929میں بلوچستان کے علاقے وڈھ میں پیدا ہوئے اور تعلیم کراچی سے حاصل کی ۔
سردار عطااللہ مینگل نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی طور پر سیاست کا آغاز کیا ۔وہ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد نیشنل عوامی پارٹی (نیپ )کے صف اول کے رہنماﺅں میں شامل رہے ۔

ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے لیکن سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بغاوت کے الزام میں ان کی حکومت کو سات ماہ بعد ختم کردیا گیا ۔وہ حیدرآباد سازش کیس میں گرفتار ہونے کے علاوہ سیاسی جدوجہد کے دوران مختلف اوقات میں گرفتار ہوتے رہے ۔

ضیاءالحق کے دور میں رہائی کے بعد انہوں نے طویل عرصے تک لندن میں جلاوطنی اختیار کی ۔تاہم وہ نوے کی دہائی میں جلاوطنی ختم کرکے واپس وطن آئے اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی تشکیل کے بعد وہ پہلے اس کے سربراہ اور بعد میں سرپرست اعلیٰ رہے۔وہ قوم پرستوں جماعتوں اور محکوم اقوام کے اتحاد پونم کے بھی سربراہ رہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.