شہبازشریف نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن فول پروف سکیورٹی مانگ لی

0 108

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپوزیشن ارکان کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ اورپولیس آئین اورقانون کے تحت فرائض انجام دے سیکریٹری داخلہ کو لکھے گئے خط میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کے دن بھی فول پروف سیکورٹی دینے کا مطالبہ کردیا
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن فول پروف سکیورٹی مانگ لی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 3 اپریل کوفول پروف سیکورٹی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو ایک خط لکھا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے تحریک عدم اعتماد کے دن پی ٹی آئی کے ایک لاکھ سپورٹر پہنچیں گے اس لیے اپوزیشن ارکان کی سکیورٹی بڑھائی جائے۔معلوم ہوا ہے کہ اس خط کی کاپی کمشنراسلام آباد ، ڈی سی اورآئی جی کوبھی ارسال کی گئی ہے ، جس میں شہبازشریف نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے دن بھی فول پروف سیکورٹی دینے کا مطالبہ کیا ہے اورکہا گیا ہے کہ اپوزیشن ارکان کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ اورپولیس آئین اورقانون کے تحت فرائض انجام دے۔اس سے پہلے 24مارچ کو بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے خون ریزی کے خدشے پیش نظر سیکریٹری داخلہ کو خط لکھا ، جس میں انہوں نے کہا تھا جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پالیمنٹ میں جمع کرائی تھی ، اسی دن قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کرائی گئی ، تحریک عدم سے متعلق قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے آئین اور قانون واضح ہے، اور ہر رکن قومی اسمبلی کا حق ہے کہ وہ اجلاس میں شریک ہو سکے۔خط میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم ، وفاقی وزرا اور وزیراعظم کے مشیران کے علاوہ بعض دیگر ذمہ داران نے اراکین کو روکنے سے متعلق بیان دے رکھے ہیں ، اس ضمن میں غیر پارلیمانی زبان بھی استعمال کی جا رہی ہے، وزیراعظم نے ایک جلسے میں اپوزیشن لیڈر کو دھمکی بھی دی کہ انہیں دیکھ لوں گا ، وزیراعظم نے ڈی چوک پر 10 لاکھ لوگ اکٹھے کرنے کا بیان دے رکھا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا کہ آپ کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ سیکٹری اسمبلی کی طرف سے فراہم کردہ صورت میں جاری کرنا ہو گا ، تحریک عدم اعتماد کے مکمل ہونے تک آپ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کر سکتے ، ایوان کا کسٹوڈین ہونے کے ناطے تمام اراکین کی حفاظت اور ان کی ایون میں موجودگی یقینی بنانا آپ کی زمہ داری ہے۔ آج دعائے مغفرت کے بعد آئینی طور پر ضروری ہے کہ ہمارا عدم اعتماد کی تحریک کو لیا جائے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قرداد پر تین دن بعد اور سات دن سے پہلے ووٹنگ ہو

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.