پاکستان کا امریکہ میں جمہوریت سے متعلق مکالمے میں شرکت سے انکار

0 112

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان سے 3 منٹ کا ریکارڈڈ بیان دینے کا کہا گیا جب کہ سوال و جواب سیشن میں پاکستان شامل نہیں ہوگا جس پر ہم نے اس مکالمے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی گفتگو
اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ میں جمہوریت سے متعلق ہونے والے مکالمے میں شرکت سے انکار کردیا۔ اس حوالے سے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ میں جمہوریت کیعنوان سے مکالمے کا انعقاد کیا گیا ، جس میں پاکستان سے 3 منٹ پر محیط ریکارڈڈ بیان دینے کا کہا گیا جب کہ سوال و جواب سیشن میں پاکستان شامل نہیں ہوگا جس پر ہم نے اس مکالمے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک چھوٹے بڑے ہوتے ہیں مگر خود مختاری ، سالمیت عزیز ہوتی ہے ، ہم کشیدگی کے قطعی حامی نہیں ہیں ، جنگیں معاشی بحرانوں سمیت ہمہ قسم کے مضمرات کا باعث ہوتی ہیں اور اس کے اثرات پورے خطے اور دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔دوسری طرف پاکستان نے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت پرامریکہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں احتجاجی مراسلہ تھما دیا ، امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیا گیا ، دفتر خارجہ سے معلوم ہوا ہے کہ قائم مقام امریکی ناظم الامور کی طلبی قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایت پر کی گئی ، امریکی سینئر عہدیدار کے الفاظ اور اندرونی معاملات میں مداخلت پر احتجاج کیا گیا۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا 37 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں دفاع ، توانائی، اطلاعات و نشریات ، داخلہ ، خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وفاقی وزرا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف سمیت دیگر سروسز چیفس ، قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں قومی سلامتی مشیر نے کمیٹی کو خط پر بریفنگ دی تھی، کمیٹی نے خط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا ، حکومت نے خط کا بھرپور جواب دینے کا بھی فیصلہ کیا تھا جس پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
Leave A Reply

Your email address will not be published.